وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کورونا وائرس کے خلاف ناقص پالیسی اپنانے پر عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے منظم انداز میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو وائرس کے پھیلاؤ کا ذمے دار قرار دے کر نشانہ بنا رہی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمے دار گزشتہ ماہ منعقدہ تبلیغی اجتمازع کو قرار دیا جا رہا ہے اور بھارت میں اس سلسلے میں باقاعدہ مہم شروع کردی گئی ہے۔
بھارت کے اسی رویے پر وزیر اعظم عمران خان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں کورونا وائرس کے پیش نظر ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں لوگ محصور ہو گئے ہیں اور بھوکے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کی ناقص پالیسی کے خلاف عوامی ردعمل سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی حکومت جان بوجھ کر مسلمانوں کو پرتشدد انداز میں نشانہ بنانا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام ویسا ہی جیسا جرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا جو مودی حکومت کے نسل پرستانہ ہندووتوا نظریات کا ثبوت ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمے دار تبلیغی جماعت کے اجتماع کو قرار دیا جا رہا ہے جو گزشتہ ماہ منعقد ہوا تھا۔
مارچ کے وسط میں دہلی میں منعقدہ تبلیغی اجتماع میں تقریبا 3400 افراد نے شرکت کی تھی اور نئی دہلی حکومت کے مطابق اسی مرکز کے 1100 کے قریب افراد میں کورونا کی تشخیص ہو چکی ہے۔
بھارت نے ملک کے تبلیغی جماعت کے سربراہ کے خلاف گزشتہ ماہ اجتماع منعقد کرنے کے پر 'مجرمانہ قتل' کے الزامات عائد کردیے ہیں اور اس اجتماع کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اس کی وجہ سے ملک میں پھیلا۔
بھارتی حکومت کی جانب سے تمام مسلمانوں کو تبلیغی قرار دے کر انہیں کورونا پھیلانے کے ذمہ دار بتانے کی پالیسی میں تیزی نظر آ رہی ہے اور بھارتی میڈیا تقریباً ہر مسلمان کو تبلیغی اور ہر تبلیغی شخص کو کورونا کا مریض قرار دینے کی دوڑ میں مصروف ہے۔
بھارت میں جاری اس منظم مہم کے خلاف ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے یہ سلسلہ نہ رکا تو مذہبی منافرت کا ایک ایسا کن سیلاب آئے گا جسے روکنا کسے کے بس میں نہ ہو گا۔
مسلمانوں کے ساتھ ایسے رویے کو دیکھتے ہوئے گزشتہ دنوں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین و ارکان نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کو ایک کھلا خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ حکومت مسلمانوں سے متعلق اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور میڈیا کو بھی اسلامو فوبیا سے روکا جائے۔
رپورٹ کے مطابق اقلیتی کمیشن کی جانب سے لکھے گئے طویل خط میں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کو بتایا گیا ہے کہ پہلے تو جان لیں کہ ہر مسلمان تبلیغی نہیں ہے اور یہ بھی جان لیں کہ ہر تبلیغی کورونا وائرس کا مریض نہیں، اس لیے حکومتی ارکان اور میڈیا ہر مسلمان کو تبلیغی قرار دینے سےگریز کرے۔
واضح رہے کہ بھارت میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔
بھارت میں اب تک وائرس سے 16ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر اور کم ازکم 521افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

No comments:
Post a Comment